مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ترجمان نے ایک بیان میں اعلان کیا: دشمن نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے حملے کی صلاحیت ختم ہو چکی ہے۔ لیکن ہم اپنے حملوں کی لہروں کے دوران، مسلسل اور پے در پے، منفرد، زبردست حملے اور غیر متناسب حکمت عملی کا استعمال کرتے ہوئے، خصوصی اور جدید ہتھیاروں سے استفادہ کر رہے ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ دشمن نے یہ دعوا کیا ہے کہ ایران کے حملے کی صلاحیت ختم ہو گئی ہے، جبکہ ایران مسلسل منفرد، زبردست اور متغیر حکمت عملی کے حامل حملے کر رہا ہے۔ کل ہی ایران نے آپریشن وعدہ صادق 4 کی 50 ویں سے 54 ویں لہروں میں متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔
ان حملوں میں، ایران نے امریکی فوج کے الخرج اڈے کو نشانہ بنایا، جسے F-35 اور F-16 لڑاکا طیاروں کے لیے اڈہ اور ایواکس طیاروں کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ایران نے مقبوضہ علاقوں اور شمالی عراق میں امریکی اڈوں، بشمول اربیل میں الحریر ایئر بیس اور کویت میں علی السالم اور عریفجان اڈوں کو بھی میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ الظفرہ اڈے کو بھی میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا، جو ایران کے خلاف امریکی حملوں میں اطلاعاتی معاونت فراہم کرتا تھا۔
حالیہ حملوں میں، ایران نے خرمشہر، خیبر شکن، عماد، اور پہلی بار سجل جیسے اسٹریٹجک میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے صہیونی حکومت کے فوجی اور فیصلہ سازی کے مراکز کو نشانہ بنایا۔ اتوار کی صبح، ایرانی فوج نے صہیونیوں کے سلامتی اور مواصلاتی مراکز پر بھی حملہ کیا۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ دشمن کے جانی نقصان کی تعداد بہت زیادہ ہے، جو ان کی سنسرشپ پالیسیوں کو ناکام بنا رہی ہے۔
آپ کا تبصرہ